Monday, March 23, 2009

حمد

ایک حمد پیش ِ خدمت ہے۔ ناصر کاظمی کی یہ حمد ان کی طویل نظم "پہلی بارش" کی ابتداء ہے۔ یہ حمد عام حمدیہ شاعری سے قدرے مختلف ہے کیونکہ اس میں مالکِ حقیقی کی بڑائی کے ساتھہ ساتھہ انسان اورمالک کے عظیم رشتےاور تعلق کو بےنظیر اور خوبصورت انداز میں بیان کیا گیاہے۔ مجھے یہ نظم بہت پسند ہے۔ امید ہے کہ آپ کو بھی پسند آئے گی۔
۔
میں۔ نے جب ۔ لکھنا۔ سیکھا ۔ تھا
پہلے ۔۔ تیر ا ۔۔ نا م ۔۔۔ لکھا ۔۔۔ تھا
۔
میں وہ صبر ِ صمیم ہوں جس نے
بار ِ امانت ۔۔ سر۔۔ پہ ۔۔۔ لیا ۔۔۔ تھا
۔
میں وہ اسم ِ عظیم ۔ ہوں جس کو
جن و ملک ۔ نے سجدہ ۔ کیا۔۔ تھا
۔
تو نے کیوں ۔ مرا ہاتھہ نہ ۔ پکڑا
میں جب رستے سے۔۔ بھٹکا۔۔ تھا
۔
جو۔۔ پا یا۔۔۔ ہے۔۔۔ وہ۔۔۔۔ تیرا۔۔ ہے
جو۔۔ کھویا۔۔۔ وہ۔۔ بھی۔۔ تیرا۔۔۔ تھا
۔
پہلی۔۔ با رش۔۔۔ بھیجنے ۔۔۔وا لے
میں۔ ترے۔ د رشن۔ کا۔ پیاسا۔ تھا
۔
ناصر کاظمی

No comments:

Post a Comment