داغ ِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیئے جلانے لگے
۔
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
۔
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
۔
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
۔
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے یہ نشانے لگے
۔
باقی صدیقی کی یہ غزل اور دوسری بیشمار غزلیں اور گیت گانے والی آواز اقبال بانو ہم سے اکیس اپریل کو رخصت ہو گئیں
its very sad news. she was really a nice singer. and this was really a famous ghazal sing by iqbal bano.
ReplyDeletehttp://www.urdureading.com
مہربانی فرما کر "خود فریبی سی خود فریبی" کی تشریح کر دیجئے
ReplyDelete