Friday, April 24, 2009

اقبال بانو کی وفات

داغ ِ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیئے جلانے لگے
۔
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
۔
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
۔
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
۔
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے یہ نشانے لگے
۔
باقی صدیقی کی یہ غزل اور دوسری بیشمار غزلیں اور گیت گانے والی آواز اقبال بانو ہم سے اکیس اپریل کو رخصت ہو گئیں

2 comments:

  1. its very sad news. she was really a nice singer. and this was really a famous ghazal sing by iqbal bano.
    http://www.urdureading.com

    ReplyDelete
  2. مہربانی فرما کر "خود فریبی سی خود فریبی" کی تشریح کر دیجئے

    ReplyDelete